آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب صدر سقاب اصفہانی نے ملک کی حساس اور کامیاب جنگی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام ان دنوں ایک غیر معمولی کارنامہ انجام دے رہے ہیں
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے سبھی شہروں میں عوام کی موجودگی صبر و بے قراری اور شکستہ اور زخمی دلوں کے ساتھ استقامت و پامردی کا شاندار امتزاج ہے
ایران کے نائب صدر سقاب اصفہانی نے کہا کہ دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ ایران کے اعلی حکام کو جو ہمیشہ عوام کے درمیان اور عوام کی خدمت میں رہتے تھے شہید کرکے ایرانی عوام کے عزم و ارادے کو کمزور کردے گا لیکن تاریخ گواہی دے گی کہ یہ خون کامیابی کا دائر وسیع ہونے کا باعث بنیں گے
= کمانڈروں کی جانشینی کے بارے میں دشمن کے اندازوں کی غلطی
ایران کے نائب صدر نے دفاع مقدس کے دوران کا آج کے ٹیکنالوجی کے دور سے موازنہ کرت ہوئے کہا کہ ایک دن دشمن سمجھ رہے تھے کہ جنرل تہرانی مقدم کو شہید کرکے ایران کی میزائیلی توانائیوں کو ختم کردیں گے لیکن اب وہ دیکھ رہے ہیں کہ آج ہماری دفاعی قوت کئي گنا زیادہ ہوگئی ہے
ان کا کہنا تھا کہ دشمن اور ہم میں بنیادی فرق یہ ہے کہ رہبرشہید انقلاب اسلامی (رح)کی منصوبہ بندی کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران میں طاقت کا ڈھانچہ اور اسٹریکچر کسی ذات تک منحصر نہيں ہے اور جو بھی کمانڈر شہید ہوتا ہے امام (رح) اور رہبر (رح) کے مکتب کے شاگرد جو دشمن کےتئيں شدید غیظ وغضب کے حامل ہوتے ہیں ان کی جگہ پرچم کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہيں ۔
= عالمی معیشت کا گلا ایران کے ہاتھوں میں ہے
ایران کے نائب صدر نے اپنے بیان میں خلیج فارس میں دشمن کے اقدامات اور ایرانی جزیروں پر قبضے کی اس کی خام خیالی کا ذکر کیا اور کہا کہ آج ہمارے کمانڈروں نے آبنائے ہرمز میں عالمی معیشت کا گلا اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیا ہے جس کی وجہ سے دشمن کے تمام اندازے غلط ثابت ہوگئے انہوں نے علاقے کےان ملکوں کو جنھوں نے اپنی سرزمین دشمن کے اختیار میں دے رکھی ہے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کو جان لینا چاہئے کہ اگر ہم ارادہ کرلیں گے تو فجیرہ بندرگاہ، ینبع بندرگاہ اور حتی ڈیمونا ایٹمی تنصیبات کو ایک لمحے میں مٹی میں ملادیں گے
مشہد مقدس کے شریعتی اسکوائر پرمنعقدہ اس عظیم الشان عوامی اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے مجلس خبرگان کے رکن آيت اللہ عالمی نے بھی کہا کہ مجلس خبرگان یا ماہرین کی اسمبلی نے انتہائي ہوشمندانہ انتخآب کرکے ایرانی عوام کی غیرت، میدانوں میں ان کی موجودگی اور مطالبات کا بہت ہی شاندار انداز میں جواب دیا ہے۔
انہوں نے موجودہ حساس صورتحال میں ایرانی عوام کی اسلامی جمہوری نظام اور مسلح افواج کی حمایت میں سڑکوں پر شاندار موجودگی ، استقامت اور غیرت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے دشمنوں کے مقابلے میں استقامت کے قرآنی پہلوؤں اور ساتھ ہی عہدیداروں اور حکام کی ذمہ داریوں کی بھی وضاحت کی ۔
ایران وینزوئيلا نہيں بلکہ یہ شیروں کا بیشہ ہے
ماہرین کی اسمبلی یا مجلس خبرگان کے رکن آیت اللہ عالمی نے عوام کی شجاعت اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہوئۓ کہا کہ آج پوری دنیا وطن عزیز کے دفاع میں ایرانی عوام کی شجاعت، غیرت اورغیر معمولی استقامت کا مشاہدہ کررہی ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جس شجاعت و بہادری کا دنیا کے سامنے مظاہرہ کیا ہے اس پر آج اقوام عالم عش عش کررہی ہیں
انہون نے ایرانی عوام کے مقابلے میں دشمن کے غلط اندازوں کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ ایران بھی بعض دیگر ملکوں کی طرح ہے کہ طاقت کے بل پر وہاں اتر کر ان کے حکام کو اغوا کرلے گا ایران کی دولت و ثروت کو لوٹ لے گا لیکن دشمن ایرانی عوام کی غیرت و قوت ایمانی سے غافل تھا ۔ آيت اللہ عالمی کا کہنا تھا کہ ہمارے عوام اپنے جذبہ ایمانی و دینی اور وطن سے عشق کی بنیاد پر دشمن کو کسی بھی طرح کی جارحیت اور ملک میں قدم رکھنے کی اجازت نہيں دیں گے اور انہيں جان لینا چاہئے کہ ایران وینزوئیلا نہيں بلکہ شیروں کا بیشہ اور کچھار ہے
مشہد کے اس عوامی اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے مدرسہ عالی فقاہت کے استاد اور فقہ نظام سیاست و حکمرانی کے شعبہ اجتھاد کے سکریٹری حجت الاسلام حمید رضا کامل نواب نے کہا کہ سیاست سے دین کی جدائی مومنین کو میدان سے الگ تھلگ رکھنے کا سامراجی قوتوں کا پرانا حربہ ہے
آستان نیوز کے مطابق حجت الاسلام کامل نواب نے دین اور سیاست کے درمیان رابطے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض ذہنوں میں سیاست کوجھوٹ فریب اور مکاری کے طورپر دیکھا جاتا ہے جبکہ سیاست معاشرے کو ترقی و خوشحالی کے راستے پر صحیح طریقے سے گامزن کرنے اور رکھنے کا نام ہے ۔
حجت الاسلام کامل نواب کا کہنا تھاکہ سیاست کو بدنام کرنے کا منصوبہ تسلط پسند طاقتوں نے تیار کیا ہے تا کہ مومن افراد سماج میں اپنا اثر و رسوخ پیدا نہ کرسکیں اور طاقت و اقتدار نیک اور صالح لوگوں کے ہاتھوں میں نہ جاسکے
اہل بیت (ع) کی سیاسی سیرت کے مطالعے سے تسلط پسندی کا خاتمہ
حجت الاسلام کامل نواب نے کہا کہ سیاست کے میدان سے مسلمانوں کا الگ تھلگ ہوجانے کا مطالب اقتدار اور طاقت ان لوگوں کے حوالے کردینا ہے جو کسی بھی طرح کے اخلاق اوردینی اصولوں کی پابندی نہیں کرتے بنابریں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اہل بیت اطہار علیھم السلام کی سیاسی اور حکومتی سیرت کا مطالعہ اور اسے اپنی زندگي میں عملی جامہ پہنا کر دین اور سیاست میں جدائي کی ذہنیت کا خاتمہ کریں اور اس بات کی اجازت نہ دیں کہ دشمن دین و سیاست میں جدائي کے حربے کے ذریعے تعلیمات وحی کی بنیاد پر انتظامی اور حکومتی امور چلانے کی برکتوں سے اسلامی معاشرے کو محروم کردے ۔